واعظ کی بات کی تو ہزاروں جواب تھے
پر کیا کریں کہ مُنہ ھے کلامِ مجید کا
روزِ اَلَسْت ہم سے بڑی چال رہ گئی
پھر ایسا دن ملے گا نہ گُفت و شُنِید کا
لایا ہے مرے قتل کا مَحْضَر پیامبر
یاں انتظار تھا مجھے خط کی رسید کا
پھر سہو ہو گئیں تری وعدہ خلافیاں
پھر اعتبار ہے مجھے عھدِ جدید کا
بُلبُل کی داستاں سُنی گُوشِ گُل نے کب
انسان ہی کو لُطف ہے گُفت و شُنِید کا
قاصد مرے سوال کا کوئی نہیں جواب
کاغذ بدل گیا نہ ہو خط کی رسید کا
ہم ایک کہہ کہ سُنتے ہیں مُنہ سے ترے ھزار
لپکا پڑا ہوا ہے گُفت و شُنِید کا
حُورانِ خُلد بولتی ہیں بڑھ کے بولیاں
نیلام ہو رھا ھے تمہارے شھید کا
رکھنا وہ روک روک کے لڑتی نگاہ کو
رکھنا وہ تھام تھام کے دل محوِ دید کا
چلنا ھمارے ساتھ ذرا اَے شبِ فِراق
دوزخ میں قحط ہو نہ عذابِ شدید کا
اَے داغؔ کیوں نہ مجھ کو شِفاعت کی ہو اُمید
مَیں ھوں مُحِبّ حُسین کا دُشمن یزید کا
مرزا داغؔ دھلوی

No comments:
Post a Comment