GetResponse Marketing Automation | E-commerce conditions!

Wednesday, October 12, 2022

واعظ کی بات کی تو ہزاروں جواب تھےlove words for him





 واعظ کی بات کی تو ہزاروں جواب تھے


پر کیا کریں کہ مُنہ ھے کلامِ مجید کا

روزِ اَلَسْت ہم سے بڑی چال رہ گئی

پھر ایسا دن ملے گا نہ گُفت و شُنِید کا

وہ بُت کرے خُدائی کی باتیں خدا کی شان

جو حرف پڑھ سکے نہ کلامِ مجید کا

لایا ہے مرے قتل کا مَحْضَر پیامبر

یاں انتظار تھا مجھے خط کی رسید کا

پھر سہو ہو گئیں تری وعدہ خلافیاں

پھر اعتبار ہے مجھے عھدِ جدید کا

بُلبُل کی داستاں سُنی گُوشِ گُل نے کب

انسان ہی کو لُطف ہے گُفت و شُنِید کا

قاصد مرے سوال کا کوئی نہیں جواب

کاغذ بدل گیا نہ ہو خط کی رسید کا

ہم ایک کہہ کہ سُنتے ہیں مُنہ سے ترے ھزار

لپکا پڑا ہوا ہے گُفت و شُنِید کا

حُورانِ خُلد بولتی ہیں بڑھ کے بولیاں

نیلام ہو رھا ھے تمہارے شھید کا

رکھنا وہ روک روک کے لڑتی نگاہ کو

رکھنا وہ تھام تھام کے دل محوِ دید کا

چلنا ھمارے ساتھ ذرا اَے شبِ فِراق

دوزخ میں قحط ہو نہ عذابِ شدید کا

اَے داغؔ کیوں نہ مجھ کو شِفاعت کی ہو اُمید

مَیں ھوں مُحِبّ حُسین کا دُشمن یزید کا
مرزا داغؔ دھلوی

















No comments:

Post a Comment