GetResponse Marketing Automation | E-commerce conditions!

Wednesday, October 12, 2022

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا




 عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا

کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا

کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا

ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا

جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا

تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا

غم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے

یہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوش گوار ہوتا

یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی

نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا

نہ مزا ہے دشمنی میں نہ ہے لطف دوستی میں

کوئی غیر غیر ہوتا کوئی یار یار ہوتا

ترے وعدے پر ستم گر ابھی اور صبر کرتے

اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا

یہ وہ درد دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئی

اگر ایک بار مٹتا تو ہزار بار ہوتا

گئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشم مست دیکھی

مجھے کیا الٹ نہ دیتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے

در یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا

تمہیں ناز ہو نہ کیونکر کہ لیا ہے داغؔ کا دل

یہ رقم نہ ہاتھ لگتی نہ یہ افتخار ہوتا

داغؔ

No comments:

Post a Comment