GetResponse Marketing Automation | E-commerce conditions!

Monday, October 10, 2022

love words for him جو کہہ رہے تھے کہ جینا محال ہے تم بن





جو کہہ رہے تھے کہ جینا محال ہے تم بن
بچھڑ کے مجھ سے وہ دو دن اداس بھی نہ رہے
معراج فیض آبادی

 


ہر حسن سـادہ لُـوح نہ دل میں اُتر سکا
کچھ تو مزاجِ یار میں گہرائیاں بھی ہوں
دنیا کے تذکرے تو طبیعت ہی لے بجھے
بات اس کی ہو تو پھر سخن آرائیاں بھی ہوں
احمد فراز


ہم جن گھروں کو چھوڑ کے آئے تھے ناگہاں
شکوے کی بات ہے وہ اگر خیریت سے ہیں
جون ایلیا


سفید رت میں گلاب ہاتھوں سے سات رنگوں کے خواب چنتی،
کپاس چننے کو آئی لڑکی کا دھیان تھوڑی کپاس پر ہے.!
پارس مزاری


مجھے اترے ہوئے چہرے زیادہ اپنے لگتے ہیں ۔۔
مجھے ملنے کو آئے تو کوئی دل سے اداس آئے ۔۔
راشد امام


‏تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دو
آ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہ.
شکیلؔ بدایونی


جو خود کو بھی میسر نہیں رہتا
وہ ترے حصے میں کیا خاک آے گا
فابی جان


دھولا چکے تھے مل کر کل لونڈے میکدے کے
پر سرگراں ہو واعظ جاتا رہا سٹک کر
میر


یارب کسی کے راز محبت کی خیر ہو
دست جنوں رہے نہ رہے آستیں رہے
جگر مراد آبادی صاحب ۔


اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف
سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
بہادر شاہ ظفر ۔


وہ مسلمان تھی اللہ سے شرماتی رہی
اور بھگوان سے گوری نے سجن مانگ لیا
قتیل شفائی


عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
نصیر ترابی


کس سے پوچھیں کہ وہ اندازِ نظر
کب تبسم ہوا کب تیر ہوا.....!!
باقی صدیقی


جب بھی ہِلے کواڑ تو لگتا ہے تُم ہی ہو
یہ وسوسے تو یار مُجھے یوں ہی کھا گئے
شوزب حکیم


36

No comments:

Post a Comment