جو کہہ رہے تھے کہ جینا محال ہے تم بن
بچھڑ کے مجھ سے وہ دو دن اداس بھی نہ رہے
معراج فیض آبادی
ہر حسن سـادہ لُـوح نہ دل میں اُتر سکا
کچھ تو مزاجِ یار میں گہرائیاں بھی ہوں
دنیا کے تذکرے تو طبیعت ہی لے بجھے
بات اس کی ہو تو پھر سخن آرائیاں بھی ہوں
ہم جن گھروں کو چھوڑ کے آئے تھے ناگہاں
شکوے کی بات ہے وہ اگر خیریت سے ہیں
جون ایلیا
سفید رت میں گلاب ہاتھوں سے سات رنگوں کے خواب چنتی،
کپاس چننے کو آئی لڑکی کا دھیان تھوڑی کپاس پر ہے.!
پارس مزاری
راشد امام
تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دو
آ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہ.
شکیلؔ بدایونی
جو خود کو بھی میسر نہیں رہتا
وہ ترے حصے میں کیا خاک آے گا
فابی جان
دھولا چکے تھے مل کر کل لونڈے میکدے کے
پر سرگراں ہو واعظ جاتا رہا سٹک کر
میر
یارب کسی کے راز محبت کی خیر ہو
دست جنوں رہے نہ رہے آستیں رہے
جگر مراد آبادی صاحب ۔
اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف
سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
بہادر شاہ ظفر ۔
وہ مسلمان تھی اللہ سے شرماتی رہی
اور بھگوان سے گوری نے سجن مانگ لیا
قتیل شفائی
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
نصیر ترابی
کس سے پوچھیں کہ وہ اندازِ نظر
کب تبسم ہوا کب تیر ہوا.....!!
باقی صدیقی
جب بھی ہِلے کواڑ تو لگتا ہے تُم ہی ہو
یہ وسوسے تو یار مُجھے یوں ہی کھا گئے
شوزب حکیم

No comments:
Post a Comment